تھام مجھے اے وقت کی ظالم گردش تھام مجھے

آج دل اسی کیفیت سے دوچار ہے جسے مشتاق احمد یوسفی نے یادش بخیریا کا نام دیا ہے۔ وطن عزیز سے نقل مکانی کئے ہوئے ایک طویل عرصہ گذر گیا ہے۔ وطن چھوڑنے کے اس واقعے کو ہرگز ہجرت کا نام نہ دوں گا کہ میرے معاملے میں نیویارک میں رہنے والے میری ہی طرح کراچی سے آئے ہوئے ایک گمنام شاعر کا شعر بعینیہ صادق آتا ہے کہ    

میرے باپ نے ہجرت کی تھی میں نے نقل مکانی     

اُس نے ایک تاریخ لکھی تھی میں نے صرف کہانی

یا پھر بقول افتخار عارف    

شکم کی آگ لئے پھرتی ہے شہر بہ شہر   

سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا    

یادوں کا ایک سلسلہ ہے جو رکنے کا نام نہیں لیتا ۔ محلے کی سڑک پر کھیلے جانی والی وہ کرکٹ ۔ ستر سی سی کی موٹر سائیکل پر وہ دن رات کراچی کی سڑکوں کی خاک چھاننا ۔جامعہ کراچی میں لگے نیم کے درخت کے نیچے جمی ہوئی وہ دوستوں کی محفل۔ وہ ڈیپارٹمنٹ کی قریبی کینٹین میں چا ئے کے دور اوراس کے بعد اپنی جیب کی حالت کا جائزہ لیتے ہوئےامریکی سسٹم کےاطلاق کا فیصلہ ۔۔۔۔ وہ تو یہاں آکر پتا چلا کہ امریکی اس کا ذمہ دار ولندیزیوں کو ٹہراتے ہیں ۔۔۔

چھوٹی چھوٹی سی یادیں ہیں کہ جو دل و د ماغ میں طوفا ں برپا کئے ہوئے ہیں ۔ دوستوں کے چہرے ایک ایک کرکے نظر کے سامنے سے گذر رہے ہیں ۔

تھام مجھے اے وقت کی ظالم گردش تھام مجھے

آج اچانک یاد آئے ہیں کیا پیارے پیارے نام مجھے

Category: متفرق  One Comment

اردو صحافت اور پریشر کا دباؤ

کچھ عرصہ قبل پاکستان کےمؤقر ترین اخبار کے ادبی صفحہ پر نظر ڈالنے کے کا اتفاق ہوا۔ ایک نظم کی پہلی سطر دیکھ کر ہی طبیعت صاف ہوگئ ۔

” میری جانِ من”

اردو اور فارسی کے اس حسین امتزاج کودیکھ کر بے اختیار جامعہ کراچی کے اپنے ایک دوست یاد آئے جن کا تکیہ کلام تھا ” پریشر کا دباؤ بہت ہے”۔ یہ اصطلاح و ہ بین الاقوامی سیاست کے بیرونی معاملات سے لے کر اپنے معدےکے اندرونی معاملات تک استعمال کرتےتھے۔ہم لوگ ازراہ تفنن کہتے ۔”ساحل سمندر کے کنارے ،شب قدر کی رات کو، سنگ مرمر کے پتھر پر، آب زمزم کا پانی پیتے ہوئے پریشر کا دباؤ بہت تھا” ۔آج کل وہ ایک اردوٹی چینل سے وابستہ ہیں ۔ مگر پریشر کا دباؤ ابھی بھی ان کے پیچھے ہے۔ اور ان کے کیا پورے پاکستانی میڈیا کے پیچھے ہے ۔۔

بریکنگ نیوز کی وہ دوڑ لگی ہوئی ہے کہ الاماں الحفیظ۔کسی ٹی وی کی وین اگر پیٹرول ڈلوانے بھی کہیں رک جاتی ہے تو پیچھے دوسرے چینلوں کی گاڑیوں کی لائن لگ جاتی ہے کہ مبادا کہیں کچھ چھوٹ نہ جائے۔

انگریزی کا مقولہ ہے کے سچ جنگ کا پہلا شکار ہوتا ہے ۔پاکستانی صحافت میں سچ “بریکنگ نیوز” کی دوڑ کا پہلا شکار ہے۔ ظالموں نے پچھلے برس فرازکوجیتے جی مار ڈالا تھا۔ بے صبری کے اسی عالم میں وکی لیکس کےثابت و سالم انڈوں سے خود ہی خیالی بچے برآمد کرنےلگے جس سے بین الاقوامی طور پر خاصی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

کچھ دنوں پہلے کراچی میں ایک نجی کمپنی کا طیارہ ایک فوجی ادارے کے احاطے میں جا گرا تھا۔سارے نیوز چینل پہلے پہل تو جہاز کے گرنے کے صحیح مقام کا تعین نہ ہونے کے باوجود غلط مقام رپورٹ کرتے رہے۔ ایک ٹی وی چینل کے رپورٹر سے جب اینکر نے سوال کیاکہ کیا علاقے کوعام لوگوں کے لئے بند کردیا گیا ہے تو بجائے اس کے وہ کہتا بھائی ابھی تو میں ناشتہ کر کے گھر سے باہر بھی نہیں نکلا ۔میرے فرشتوں کو بھی خبر نہیں کہ جہاز ہے کہاں۔ فرمانے لگے ہاں جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ایسے موقع پر علاقے کو بند کردیا جاتا ہے ۔فلاں کردیا جاتا ہے۔ فلاں ہوا کرتا ہے۔

الفاظ کا چناؤ اور ادائیگی تو ایک الگ ہی کہانی ہے جس کے لئے ایک الگ مضمون درکار ہے۔پاکستان کے اکثر صحافی پڑھے لکھے نہیں بلکہ صرف لکھے ہوئے ہیں ۔

اپنے ایک اور صحافی دوست سے جب اپنے ان تحفظات کا اظہار کیا تو اپنے مخصوص انداز میں بولے ۔”یار باس ۔ اللہ معاف کرے ۔ بڑا کچرا ہے “ ۔ ایک شعر جو سیاست کے لئے لکھا گیا تھا آج کل کی صحافت پر بھی پور ا اترتا ہے۔

میرے وطن کی “صحافت” کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہےطوائف تماش بینوں میں

انقلاب لے لو- انقلاب

آجکل وطن عزیز پاکستان کے سیاستدان ن م راشد کی نظم کے کردار “اندھے کباڑی” سے بے حد متاثر نظر آتے ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کے وہ خواب کی جگہ انقلاب بیچتے نظر آتے ہیں۔ بلکہ بیچنا بھی کیا ، بالکل اسی نابینا کباڑی کی طرح “مفت لے لو مفت” کی صدا لگا تے پھرتے ہیں ۔

مفت سن کر اور ڈر جاتے ہیں لوگ
اور چپکے سے سرک جاتے ہیں لوگ
دیکھنا یہ مفت کہتا ہے
کوئ دھوکا نہ ہو
ایسا کوئی شعبدہ پنہاں نہ ہو
گھر پہنچ کر ٹوٹ جائے
“یا پگھل جائے یہ “انقلاب

دو برادران ہیں جو اپنے محل میں بیٹھ کر سیکڑوں محافظوں کے نرغے سے انقلاب کو آواز دے رہیں ہیں ۔ ایک پوری داستان لکھی جاسکتی ہے جس کا عنوان ہوکا “معافی نامے سے انقلاب تک”۔ ان برادران کی سعودی عرب روانگی کے بعد ہمارے برادر محترم کا کہنا تھا کہ “خادم حرمین ” تو سمجھ میں آتا تھا “شریفین” اب سمجھ میں آیا ہے۔

ایک صاحب اور ہیں۔ قوم مشکل میں ہے اور مشکل کشا انگلینڈ میں ۔ وقتاْ فوقتاْ قوم کو ہدایات دیتے رہتے ہیں کہ انقلاب کی دیگ تیار رکھو ۔ بس میں ڈھکنا ہٹانے پہنچ جاؤ ں گا۔ پتا نہیں یہ نوید ہے یا دھمکی۔ عوام بھی سن کر نہیں دے رہے کہ کہییں موصوف واقعی واپسی کا رخت سفر نہ باندھ لیں۔ ہمارے عم محترم کو پختہ یقین تھا کہ کشمیر اداکارہ شمیم آراء کی وجہ سے آزاد نہ ہوسکا کیوں کہ انہوں نے کہا تھا کہ میں اس سے شادی کروں گی جو کشمیر کو آزاد کرائے گا۔ کچھ ایسی ہی صورتحال یہاں نطر آتی ہے۔

ستر کی دہائ میں “انقلاب زندہ باد” مارکہ فلموں کا دور دورہ تھا ۔ فلموں میں مزدور سرمایہ داروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے تھے ۔ اس کے برعکس حقیقی زندگی میں اس فلم ٹکٹ کی قیمت کے مد میں غریب کا آخری روپیہ بھی سرمایہ دار کی جیب میں منتقل ہو جاتا تھا۔ موجودہ صورتحال انہی فلموں کا نشر مکرر معلوم ہوتی ہیں ۔

حکایتیں فصاحتیں بلاغتیں خطابتیں
فضول سب فضول ہے قبول ہے یہاں لہو
پاکستان کی اس صورتحال پر اپنے اس اردو بلاگ میں “گل اسکاٹ ھیرون “ کے مشہور انگریزی گانے کے بول شامل کرنے پر مجبور ہوں کہ اس سے زیادہ بر محل چیز مجھے اردو زبان میں فی الوقت نہ مل سکی۔
The Revolution Will Not Be Televised
You will not be able to stay home, brother.
You will not be able to plug in, turn on and cop out.
You will not be able to lose yourself on skag and skip,
Skip out for beer during commercials,
Because the revolution will not be televised.
The revolution will not be televised.
The revolution will not be brought to you by Xerox
In 4 parts without commercial interruptions.
The revolution will not show you pictures of Nixon
blowing a bugle and leading a charge by John
Mitchell, General Abrams and Spiro Agnew to eat
hog maws confiscated from a Harlem sanctuary.
The revolution will not be televised.

The revolution will not be brought to you by the
Schaefer Award Theatre and will not star Natalie
Woods and Steve McQueen or Bullwinkle and Julia.
The revolution will not give your mouth sex appeal.
The revolution will not get rid of the nubs.
The revolution will not make you look five pounds
thinner, because the revolution will not be televised, Brother.

There will be no pictures of you and Willie May
pushing that shopping cart down the block on the dead run,
or trying to slide that color television into a stolen ambulance.
NBC will not be able predict the winner at 8:32
or report from 29 districts.
The revolution will not be televised.

There will be no pictures of pigs shooting down
brothers in the instant replay.
There will be no pictures of pigs shooting down
brothers in the instant replay.
There will be no pictures of Whitney Young being
run out of Harlem on a rail with a brand new process.
There will be no slow motion or still life of Roy
Wilkens strolling through Watts in a Red, Black and
Green liberation jumpsuit that he had been saving
For just the proper occasion.

Green Acres, The Beverly Hillbillies, and Hooterville
Junction will no longer be so damned relevant, and
women will not care if Dick finally gets down with
Jane on Search for Tomorrow because Black people
will be in the street looking for a brighter day.
The revolution will not be televised.

There will be no highlights on the eleven o’clock
news and no pictures of hairy armed women
liberationists and Jackie Onassis blowing her nose.
The theme song will not be written by Jim Webb,
Francis Scott Key, nor sung by Glen Campbell, Tom
Jones, Johnny Cash, Englebert Humperdink, or the Rare Earth.
The revolution will not be televised.

The revolution will not be right back after a message
bbout a white tornado, white lightning, or white people.
You will not have to worry about a dove in your
bedroom, a tiger in your tank, or the giant in your toilet bowl.
The revolution will not go better with Coke.
The revolution will not fight the germs that may cause bad breath.
The revolution will put you in the driver’s seat.

The revolution will not be televised, will not be televised,
will not be televised, will not be televised.
The revolution will be no re-run brothers;
The revolution will be live.